فیچرز اور انٹرویو

چوبیس گھنٹے مسلح ڈیوٹی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے: سوات کلاس فور ایسوسی ایشن

سوات سکولوں کے چوکیداروں نے چوبیس گھنٹے اسلحہ بردار پہرہ دینے سے انکار کیا ہے

چارسدہ یونیورسٹی پر ہونے والے حملے کے بعد حکومت کی جانب سے اداروں پر اپنی سیکورٹی خود کرنے کی ذمہ داری ڈالی گئی ہے جس کے تحت ہر تعلیمی ادارہ اپنے لئے حفاظتی اقدامات خود ترتیب دے گا۔ اسی اقدام کے تحت سکولوں میں اساتذہ کو بھی اسلحے کی فراہمی اور طلبا کو اسلحہ چلانے اور ہنگامی حالات نے نمٹنے کی تربیت مختلف جگہوں پر دی گئی ہے اور یہ سلسلہ ابھھی جاری ہے۔

تعلیمی اداروں نے اپنی حفاظت خاطر چوکیداروں کو چوبیس گھنٹے اسلحہ بردار پہرہ دینے پر مجبور کردیا ہے۔ یہ چوکیدار جو کسی زمانے میں سکول کے عملے کے لئے کلاس فور ملازمین کی حیثیت سے بازار آنے جانے، کھانا چکانے اور صفائی ستھرائی کا کام کرنے کے علاوہ سکولوں کے باہر بیٹھ کر کسی اندر جانے والے پوچھ گچھ کیا کرتے تھے لیکن آج یہ صرف کلاس فور نہیں بلکہ اپنے سکول کا کمانڈو ہے جس کی زمہ داری ہے کہ چوبیس سینہ تھان کر اسلحہ سمیت سکول میں پہرہ دے گا جس کے خلاف منگل کو سوات کے تمام کلاس فور ملازمین تنظیم نے پریس کیا ہے۔ پریس کانفرنس سے کطاب کرتے ہوئے کلاس فور ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ اس قابل کہاں کہ عسکریت پسندوں کا مقابلہ کرسکے جبکہ اکثر پرائمری سکولوں میں تو ایک ہی کلاس فور ہوتا ہے جو کہ چوبیس گھنٹے پہرہ دینے پر مجبور ہوتا ہے ۔ اسکے باوجود بھی ان کے خلاف مقدمے درج کئے جاتے ہیں۔ یہ چوکیدار جب چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دیتا ہے تو اس کے باقی ضروریات زندگی کیسے پورے ہوتے ہیں یہ سوال جب ٹی این این نے ایک پرائمری سکول میں کلاس فور حیثیت سے ملازم عصمت جان سے پوچھا تو موصوف نے جواب میں کہا کہ سارا دن سکول کے سامنے بیٹھ کر اساتذہ اور طلبا کی دیکھ بھال کے علاوہ سکول کے لئے باہر کے کام اور سکول کی عمارت کی حفاظت ان ہی کے ذمہ ہے۔ ان کے مطابق جب ان کو گھر جانا ہوتا ہے تو اپنی جگہ اپنے بھائی کو سکول کی ذمہ داری سونپ کر چلے جاتے ہیں جبکہ رات بھر ٹارچ ہاتھ میں لئے سکول کے کونے کونے پھرنا پڑتا ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ علاقے کی پولیس گشت نہیں کرتی کیا تو عصمت جان نے کہا کہ پولیس اپنی چوکی تک نہیں سنبھال سکتے گشت کیا کرینگے۔ عصمت جان کی سینکڑوں چوکیدار سوات میں سراپا احتجاج ہیں کہ ان کے خلاف صحیح ڈٰیوٹی نہ دینے کے مقدمے درج کئے جاچکے ہیں۔ ان مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینا تو انسانی حقوق کی خلاف سنگین خلاف ورزی ہے ان کو متبادل ڈیوٹی کے لئے عملہ تعینات کیا جائے تا کہ ایک چوکیدار شفٹ کے حساب سے بارہ بارہ گھنٹے کی ڈٰیوٹی آرام سے دے سکے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button