فیچرز اور انٹرویو

باڑہ بازار میں روزگار کی بحالی اتنی آسان نہیں۔ ایک تاجر کی منہ بولی کہانی

خیبر ایجنسی میں دس ہزارسے زائد دوکانوں پر مشتمل باڑہ بازار آج سے سات سال قبل فوجی آپریشن کی ضد میں آکر ہر طرح کے روزگار کے لئے بند کیا گیا تھا جبکہ جمعے کو حکومت نے اسے کاروباری سرگرمیوں کے لئے کھول دیا ہے۔

یہ بازار سات سال بند رہنے کی وجہ سے تاجران مالی بحران کا شکار ہیں اور وہ اس قابل نہیں کہ اپنے روزگار کو دوبارہ شروع کرسکے اور نہ ہی اس مد میں کسی سرکاری یا غیرسرکاری ادارے نے ان کی دادرسائی کی ہے جس کی وجہ سے باڑہ تو کھل گیا لیکن یہاں روزگار کا پھلنا بڑھنا اتنا آسان نہیں جتنا کے دعوے اور اعلانات کئے جارہے ہیں۔ ان ہزاروں تاجروں میں ایک تاجر فردوس جمال بھی ہے جو کہ روزگار بند ہونے پر لاکھوں روپے کے قرض تلے دھب گیا ہے اور بمشکل ہی بٹہ تل بازار میں بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کما رہا ہے۔

ٹی این این کے نمائندہ خیبرایجنسی سلیم الرحمٰن آفریدی نے فردوس جمال کے ساتھ ان کے روزگار میں آنے والے نشیب و فراز سے متعلق نشست کی ہے جو قارئین کی نظر کیا جارہا ہے

ٹی این این : باڑہ بازار میں آپ کس روزگار سے منسلک تھے ؟

باڑہ بازار بند ہونے سے اسی لاکھ سے لیکر ایک کروڑ تک کا روزگار تھا۔ میری جوس، بسکٹ اور دیگر سویٹس ایجنسیاں تھیں اور میرے ساتھ ہروقت چار پانچ مزدور برسرروزگار ہوتے تھے۔ لیکن اب ایسے حالات ہیں کہ میں پندرہ بیس لاکھ روپے قرض تلے دھبا ہوں۔ غربت نے اتنا دھر لیا ہے کہ بچے کو میڈیکل تعلیم چھوڑنا پڑا کیونکہ میں ان کے تعلیمی اخراجات برداشت نہیں کرسکتا۔

IMG_20160111_024605212-300x169

ٹی این این : جب باڑہ بازار بند ہونے کو تھا تو کیا آپ کو اتنا موقع بھی نہیں ملا کہ اپنا روزگار دوسری جگہ منتقل کرسکیں ؟

جب بازار سیل ہوا تو ہم پر چھ ماہ تک ایسی کرفیو لگائی گئی کہ ہم چھ ماہ تک اپنے دوکانوں کے پاس تک نہیں جاسکتے تھے۔ چھ ماہ بعد ہمیں اتنی اجازت ملی کہ اپنا سامان باہر لے جاسکیں لیکن وہ تو شدید گرمی اور برسات کے دن تھے جس کہ وجہ سے زیادہ تراشیائے خورد و نوش خراب ہوچکی تھیں۔ میرے ساتھ دوکان میں ایسا کچھ ہی سامان رہتا تھا جو کہ ایکسپائر نہ تھا جبکہ میرے ایک دوکان اور چار گوداموں میں زیادہ تر سامان ایکسپائر اور ناقابل استعمال ہوگیا تھا۔

ٹی این این : اب جبکہ آپ کا اتنا نقصان ہوا تو آپ نے حکومت سے اس بارے کوئی مالی اعانت کی درخواست نہیں کی ؟

اس بارے چھوٹے اور درمیانے درجے کے روزگار کے فروغ کے لئے سرکاری ادارے سمیڈا کا ایک پروگرام چلا تھا اور تقریبا تین چار سال قبل ہم نے ان کے پاس اپنی درخواستیں جمع کیں اور ان کو اپنی حالت زار سے باخبرکیا اور اپنے روزگار کے ثبوت بھی فراہم کیں لیکن تاحال کوئی بات نہ بنی۔ اس کے علاوہ گورنر سے بھی ہماری امید تھی کہ شائد وہ کچھ کربیٹھے ہمارے لئے لیکن ہماری ساری امیدوں پر پانی پھیر گیا۔ ابھی حکومت سے ہمارا مطالبہ ہے کہ تاجروں کو بلا سود قرضے دیے جائیں۔ جیسا کہ اگر مجھے دس بیس لاکھ کا قرضہ ملے تو میں بآسانی اپنا روزگار دوبارہ شروع کرسکتا ہوں۔

ٹی این این : موجودہ حالات میں آپ کس روزگار سے وابستہ ہیں ؟

جب باڑہ بازار بند ہوا تو اس کے کچھ عرصہ بعد بٹہ تل بازار میں کچھ روزگار شروع ہوا تو میں نے بھی وہاں کچھ نہ کچھ کرنے کو سوچا لیکن پیسے نہ ہونے کی وجہ سے میں کوئی اچھا روزگار شروع کرنے سے قاصر تھا۔ میں بس ایک دوکاندار سے اشیا خرید کر دوسرے دوکاندار کو کچھ منافع پر بیچ دیتا ہوں۔ اس پہلے ہم نے اچھا وقت گزارا تھا جسکی وجہ سے یہ دوکاندار مجھے قرض پر سودا سلف دیتے ہیں۔ جب قرض کے عوض یہ مال خرید لیتا ہوں تو دوسری جگہ بیچ کر ان کے پیسے لوٹا دیتا ہوں اور باقی اتنا کچھ بچ جاتا ہے کہ گھر کا چولہا جلتا ہے۔

ٹی این این: باڑہ بازار تو روزگار کے لئے دوبارہ کھول دیا گیا ہے، وہاں پر روزگار دوبارہ منتقل

کرنے کا آپ کا کوئی ارادہ ہے ؟

اگر گورنر نے کچھ مالی اعانت کی تو ہمارا مسمم ارادہ ہے کہ پھر سے اپنے روزگار کو اپنی دھرتی پر شروع کریں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button