فیچرز اور انٹرویو

خوبصورت خواتین ہر مرد کی خواہش، پھر بیوٹی پارلر کی مخالفت کیوں ؟ مرد بھی میدان میں کھود پڑے

پشاور سے تہمینہ سید

ایک دور تھا جب کائنات کی زینت بننی والی وجود زن گھر کے اندر محدود وسائل میں بناؤ سنگھار کیا کرتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب ایک خاتون کا میک اپ کٹ  دنداسے، عام کریم اور سُرمے پر مشتمل تھا۔ جونہی وقت گزرتا گیا تیکنیکی دنیا میں انقلاب برپا ہوتے ہوگئے۔ اسی تکنیکی ترقی نے خواتین کے میک اپ کٹ میں لاتعداد اشیا کا اضافہ کیا۔ مارکیٹ کی جدت فیشن کی دنیا میں بدلتے انداز اور خواتین میں خوبصورتی بڑھانے کی خواہش نے بیوٹی پارلر کے روزگار کو جنم دیا۔ یہ روزگار وہ واحد روزگار ہے جس میں صرف خواتین ہی خواتین کا کام کرتی ہیں اور گھروں میں بھی چلایا جاتا ہے۔ پشاور صدر میں بیوٹی پارلر کے روزگار سے منسلک نوشین کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں خواتین نہ صرف میک اپ، بیس، تھریڈنگ کیلئے اآتی ہے بلکہ بال بنانے، سنوارنے اور کٹنگ بھی اکثر آنی والی خواتین کا مدعا ہوتا ہے۔

” آج کل کی خواتین گھروں سے باہر آگئی ہیں اور زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھ گئی ہیں۔ خوبصورتی اور بناؤ سنگھار خواتین کا ورثہ گردانا جاتا ہے۔ پیشہ ور ہو یا گھریلو خواتین سب ہی بننے سنورنے کیلئے بیوٹی پارلر کا رخ کرتی ہیں۔ کوئی میک اپ کیلئے اتا ہے، کسی کے بالوں کی کٹنگ ہوتی ہے یا ڈئزائن بنانا ہوتا ہے، کسی نے بالوں کو مظبوط بنانا ہوتا ہے اور کوئی ما ئیوں اور مہندی کے لئے تیار ہونے آتا ہے۔ بعض خواتین فیشل بیس اور تھریڈنگ کے لئے بیوٹی پارلر کی جانب بڑھتی ہیں”۔

نوشین کے ساتھ اسی سنگھار خانے میں کام میں مصروف نوشین کا کہنا ہے کہ ان کے ہاں خواتین مختلف میک اپ کے لئے آتی ہیں لیکن ان کا مشاہدہ رہاہے کہ خواتین زیادہ تر سفید دکھنا چاہتی ہے اور رنگ گورا کرنے میں دلچسپی لیتی ہیں۔

بیشتر خواتین جب بیوٹی پارلر آتی ہیں تو وائٹننگ میں دلچسپی لیتی ہیں اور اگر کوئی نئے تکنیک یا سٹائل کی فرمائش کرے تو ہمیں بہ ہر صورت وہ ڈیزائن یا سٹائل سیکھنا ہوتا ہے“۔

tehmina makeup

ویسے تو خواتین کے لئے معمول کے مطابق گھر میں میک اپ کا کافی سامان موجود ہوتا ہے لیکن گھریلو مصروفیات، بچوں کی نگہداشت اور فارغ وقت کی عدم دستیابی ان خواتین کے حسن و جمال کو چمکانے میں حائل ہوتی ہے۔ اس کے مقابلے میں بیوٹی پارلر ایک ایسی جگہ ہے جہاں خواتین صرف میک اپ کے لئے جاتی ہیں اور وہاں ان کا یہ مدعا پورا ہوتا ہے۔ عائشہ جو کہ ایک طالبعلمہ ہے بتاتی ہیں کہ یہ بیوٹی پارلر محض اس لئے جاتی ہیں کہ وہاں بننے سنورنے کا جدید سامان اور تکنیک استعمال کئے جاتے ہیں۔

“ٰآجکل تو وہ دور ہی نہیں رہا، پہلے پہل خواتین گھروں کے اندر تیار ہوتی تھیں نہ ان کے پاس بال سیدھے کرنے والی مشین سٹریٹنر ہوا کرتی تھی اور نہ ہی کوئی اور سامان موجود تھا۔ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ خوبصورت لگے لیکن خواتین کو شادی بیاہ اور دیگر تقریبات کے لئے  گھر میں بناؤ سنگھار کا کم ہی موقع ملتا ہے۔ اسی لئے وہ کوشش کرتی ہیں کہ بیوٹی پارلر جاکر احسن طریقے سے تیار ہو کیونکہ پارلر میں ماہرانہ طریقوں سے سنگھار ہوتا ہے “۔

جہاں خواتین اتنا بناؤ سنگھار کے حق میں ہیں وہاں مردوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کا جمالیاتی ذوق تو ہے لیکن بیوٹی پارلر جانے کے خلاف ہیں۔ اس طبقے کے مطابق خواتین قدرتی حسن میں ہی اچھی لگتی ہیں۔ اس طبقے میں پشاور کے ارشد کا شمار بھی ہوتا ہے جن کے مطابق خواتین میک اپ پر نہ صرف وقت ضائع کرتی ہیں بلکے پیسے بھی خرچتی ہیں۔

میں پارلرز میں میک اپ کے خلاف اس لئے ہوں کہ میرے مطابق یہ فضول کام اور پیسے کا ضیا ہے۔ چند دن قبل میری اہلیہ بال کٹوانے پارلر گئی تھی اور معمولی خراش تراش کے اس سے سات سو روپے لئے گئے اگر وہ پورا میک اپ کرتی تو سات سے آٹھ ہزار روپے خرچ کرکے آتی“۔

عائشہ مانتی ہیں کہ کچھ بیوٹی پارلرز زیادہ چارج کرتی ہیں لیکن پشاور میں سستے پارلرز بھی ہیں۔

” کچھ پارلرز زیادہ پیسے لیتے ہیں اور کچھ کم تو ہمارے جیسے طالبعلموں کی کوشش ہوتی ہیں کہ ایسی جگہ جایا جائے جہاں چارجز کم سے کم ہو”۔

خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ ہر میدان میں چلنے کی ٹھان لی ہے لیکن میک اپ کے میدان میں تو خواتین پیش پیش ہیں اور ان کے شانہ بشانہ چلنے کے لئے مردوں کے سیلون بھی میدان میں آگئے ہیں۔ ساجد جو کہ مردوں کے لئے اپنا بیوٹی سیلون چلاتے ہیں کا کہنا ہے کہ بیشتر جوان چہرے کی صفائی کے لئے ان کے سیلون کا رخ کرتے ہیں۔

یہاں زیادہ تر لڑکے بال کٹوانے اور سیدھائی کے لئے آتے ہیں تا ہم کچھ لڑکے فیشل اور فیس واش کے لئے بھی آتے ہیں“۔

میک اپ اگر ایک طرف لڑکے اور لڑکیوں کی زینت میں اضافہ کرتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق غیر معیاری کریم اور دیگر سامان و آلات انسانی جلد کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button