مردان، ہندو برادری کی ہریندر دیوی مسلمان لڑکیوں کو ہنرآشنا کرنے کے لئے بے تاب

عبدالستار

مردان کی ہندو برادری سے تعلق رکھنے والی ہریندردیوی کہتی ہے کہ انکی زندگی کا مقصد یہی ہے کہ خودبھی جیے اور دوسری خواتین کی زندگیوں کو بھی آسان بنائے اور انسانیت کی خدمت کرے۔

ہریندردیوی نے ٹی این این سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ہندو کموینٹی سے تعلق رکھتی ہے اور تین بچوں کی ماں ہے جبکہ شوہرکافی عرصہ بیمار ہونے کے بعدوفات ہوچکے ہے انہوں نے کہا کہ پہلے اقلیت کو اسانیاں نہیں تھی تو والد سکول میں داخل نہیں کرنا چاہتے تھے لیکن بہت مشکل سے انہوں نے پڑھا اور جب سابقہ وزیراعظم جونیجو نے روشنی سکول پراجیکٹ شروع کیاتوپھروہاں سے تعلیم شروع کی اورمشکل سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن سے گھرمیں سلائی کا کام کرتی تھی اور اس سے ہی اپنی سکول کی فیس بھی دیتی تھی۔

ہریندردیوی نے کہا کہ ان کی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود بھی کام کرے اور دوسروں کے ساتھ بھی بھلائی کرے انہوں نے کہا میں نے اپنے یتیم بچوں پر اپنی مخنت سےاچھی سکولوں سے تعلیم حاصل کی جبکہ  بیٹی نے کمپیوٹرسائنس میں ماسٹر ڈگری حاصل کرلی اور انکی شادی بھی کرچکی ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کہ میرے گھرمیں کوئی کمانے والا نہیں لیکن ہمت نہیں ہاری اور سلائی کے ساتھ سوشل ورکر کے طورپرپولیو مہم میں بھی کام کیا اور ریسکیو کی تربیت بھی لے چکی ہوں اور ساتھ ہی فیتھ فرینڈزگروپ سے بھی منسلک ہوں اور اب الفلاح تنظیم کے ساتھ بھی رضاکارانہ طورپر کام کررہی ہوں۔

ہریندردیوی نے کہا کہ ایک ہندو ہوکر جب وہ کسی مسلم ،عیسائی کی فلاح کے لئے کام کرتی ہے تو انکو اس سے بہت سکون ملتا ہے مذہب سے فرق نہیں پھتا جو بھی ہو اپنے مذہب میں رہے اپنی نماز پڑھے یا جو بھی عبادت کرے لیکن انسان سب برابر ہے اور انسانیت کی خدمت کرنی چاہئے۔

انہوں نے کہا انکی سلائی سنٹرمیں اس وقت ہندو اور مسلم خواتین ہیں اور دوسرے مذاہب کی لڑکیوں نے بھی رابطے کئے ہیں اور وہ یہاں بلکل مفت سلائی سکھاتی ہے جبکہ سنٹرمیں آنے والےتمام مذاہب کی خواتین انکی بہت عزت کرتی ہے اور نہ ابھی تک انہوں نے انکو محسوس ہونے دیاکہ یہ اقلیت سے ہے اور نہ ابھی تک مذہب کے بارے میں کوئی بات ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ فیتھ فرینڈزگروپ کے وجہ سے دوسرے مذاہب کے لوگوں سے بھی میں ملتی جلتی ہیں۔ ہریندردیوی نے کہا کہ میں تو سلائی کے زریعے خود کمارہی تھی لیکن سنٹرکھولنے کے لئے ادارے سے سند حاصل کی اور سوچا کہ کیوں نہ کسی کی بھلائی کے لئے کام شروع کروں کہ اپنے محلے کے لڑکیوں کو سکھاؤں کہ وہ آگے جاکراپنی گھر کی مددکرے اوراپنے والد،بھائی یا اپنے بچوں کی اس کے ذریعے مددکرسکے گی تو ایک این جی او سے درخواست کی کہ مجھے سلائی کی کچھ مشینیں مہیا کریں جس پر انہوں نے مجھے چھ مشینیں دی۔

انہوں نے کہا کہ اس سنٹر میں مجھے نہ تنخواہ ملتی ہے اورنہ کرایہ کی مدمیں کچھ ملتا ہے جبکہ میرا بڑا بیٹا میرے ساتھ پیسوں میں مددکرتا ہے اور امید ہے کہ آہستہ آہستہ کام بہتر ہوتا جائے گا۔ عیسائی برادری کی لڑکیوں نے بھی رابطہ کیا ہے اور انکے سنٹرکا دروازہ تمام فیتھ کے لوگوں کے لئے کھلا ہے کیونکہ کوئی بھی سیکھ کے جائیگا تو انکو خوشی ہوگی۔

ہریندردیوی نے کہا کہ انکو اب تک ایک غیرسرکاری ادارے الفلاح نے سلائی مشینیں دی ہے اور اگر کوئی مددکرنا چاہتا ہے تو انکو سنٹرکے لئے کوئی بڑا جگہ مہیا کریں اگرسنٹربڑا ہوگا تو اس میں زیادہ لڑکیاں سیکھنے کے لئے آئیگی اور جب زیادہ لڑکیاں سیکھے گی تو زیادہ گھروں کو فائدہ ملے گا۔

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button