فیچرز اور انٹرویو

ہمت اور حوصلے کا پہاڑ پشاور کی سیدہ عامرہ بیگم

 صبا بنگش

ہمارے معاشرے میں عمومی طور پر مرد حضرات کو کام کاج اور کمائی کا ضامن جبکہ خواتین کو اولاد کی پرورش اور گھریلو کام کے لئے موذوں سمجھا جاتا ہے۔ اس معاشرے میں ایسے خواتین بھی ہے جو کہ بچوں کی پرورش کے ساتھ ساتھ گھر کا چولہا جلانے میں بھی ہاتھ بٹاتی ہیں۔ ایسی ہی ایک خاتون پشاور کی سیدہ  عامرہ بیگم  ہے جنہوں اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لئے پشاور کے آسیہ گیٹ میں ایک سلائی سنٹر بنایا ہے جہاں وہ خواتین کپڑوں کی سلائی کے ساتھ ساتھ دیگر خواتین کو ٹریننگ بھی دیتی ہیں،

 میں دو پہر تین بجے سے شام پانچ بجے تک لڑکیوں کو سلائی ٹریننگ دیتی ہوں اور رات دس بجے سے لیکر تین بجے تک کپڑے سلائی کرتی ہوں۔ جو پیسے کماتی ہوں اس سے بچوں کی سکول فیس دیتی ہوں اور   گھر کے دوسرے چھوٹے بڑے اخراجات بھی اسی میں پورا کرتی ہوں 

عامرہ بی بی جوکہ پندرہ سال سے کپڑے سلائی کے ہنر سے منسلک ہے چار بچوں کی ماں ہے جو کہ مختلف سکول اور یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں”میرے بچے نہایت شوق سے تعلیم حاصل کرتے ہیں

عامرہ بیگم کے بچے کام میں ان کا ہاتھ بٹاتی ہیں

میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ بیوٹی پارلر بھی چلاتی ہوں اور یہ سب میں نے اپنی ماں سے سیکھا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوجاؤں، اپنی ماں کا سہارہ بنوں ۔ میری دوسری بہن یونیورسٹی  میں پڑھتی ہے

عامرہ بی بی کے مطابق کاروبار شروع کرنے میں ان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن گھر اور خاندان کی سپورٹ نے اسے اس قابل بنا دیا کہ اپنے روزگار کے زریعے ایک کامیاب زندگی گزارسکے

میں لوگوں کے ساتھ مدد کرتی تھی اور ان کا ہاتھ بٹاتیہ تھی، بہت محنتی تھی اور یہی محنت میری پہچان بنی اور میرا سلائی سنٹر کافی مشہور ہوا جو کہ اس کی کامیابی کا موجب بنی

سیدہ عامرہ بی بی کی کاوشیں یہاں پر آکے ختم نہیں ہوتی بلکہ وہ خواتین کی فلاح و بہبود کے لئے ایک بلدیاتی کونسلر کی حیثیت سے بھی سرگرم رہی ہے۔ سیدہ عامرہ بی بی گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین سیٹ پر کونسلر منتخب ہوئی ہیں۔

میں جنرل کونسلر بھی ہوں جو بھی لوگوں کو ساتھ مدد کی ہے  اور یہ ان لوگوں کا اعتماد ہی تھا کہ انہوں نے مجھے اس بلدیاتی انتخابات میں کونسلر منتخب کیا  

 

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button