خیبر پختونخوافیچرز اور انٹرویو

صوابی کے ثقافتی چادر ‘چیل’ کو نئے انداز میں پیش کرنا طالبات کو مہنگا پڑ گیا

 

خالدہ نیاز

صوابی یونیورسٹی میں طالبات کی جانب سے ضلع کے مشہور ثقافتی چادر ‘چیل’ کو بلاوز کے طور پر پیش کرنے کے بعد مقامی لوگوں میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور طالبات کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ واقعہ چند دن پہلے یونیورسٹی میں ہونے والے ایک سپورٹس گالا کے دوران پیش آیا جس میں چند طالبات نے مبینہ طور پر صوابی کے مخصوص چیل کو ایک نئے انداز میں پیش کرنے کی غرض سے اس ثقافتی چادر کو عبایا کے اوپر بلاوز کے طور پر پیش کیا تھا۔

طالبات کی اس ڈریس کوڈ کی تصاویر سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد صوابی میں اس پر نئے بحث نے جنم لیا ہے۔ کچھ لوگ اس کو وقت کے ساتھ جدت کے طور پر دیکھتے ہیں تو اکثریت نے کھل کر اس پر تنقید کی ہے اور اسے روایات کا کھلم کھلا مذاق اڑانے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

ایک سوشل میڈیا صارف ڈاکٹر عبد السمیع خان سمیع نے اس حوالے سے پوسٹ میں کہا کہ یونیورسٹی میں صوابی چیل کا مذاق اڑا دیا گیا، صوابی چیل تھا لیکن واسکٹ نہیں، کہاں ہیں صوابی یونیورسٹی کا چانسلر؟

پختون خان نامی ایک فیس بک صارف نے اس حوالے سے کہا کہ ہم اپنے روایات پر فخر کرتے ہیں اور انکے خلاف ہونے والے پروپیگنڈے پر احتجاج کرنے کا پورا حق رکھتے ہیں، ہم کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ وہ ہمارے روایات کا مذاق اڑائے۔

بازید خیل زلمی نامی صارف نے بھی اس کی تاریخ پر بات کرتے ہوئے چیل کے بنے ہوئے بلاوز پر کھل کر تنقید کی۔

نہ صرف سوشل میڈیا صارف اس سے ناخوش دکھائی دیتے ہیں بلکہ مقامی افراد بھی اس کو چیل کی بے حرمتی سے تشبیح دے رہے ہیں۔ ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والے شوکت علی انجم نے ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران بتایا کہ اس طرح چیل کی نمائش بلاوز کے طور پر کرنا ہماری ثقافت اور پردے کے ساتھ مذاق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے نہیں جانتے کہ اس کے پیچھے ان کا مقصد کیا تھا لیکن کیا اس طرح کرنا ضروری تھا اس طرح کرنے کے علاوہ بھی اسکو چادر کے طور پر بھی تو پیش کیا جاسکتا تھا۔

شوکت علی انجم نے کہا کہ بعض چیزیں فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بنتے ہیں جن کے کرنے سے گریز کرنا چاہیئے۔

دوسری جانب اس ڈریس کوڈ کی خالق ماہ گل کا کہنا ہے کہ ‘میرا مقصد صوابی کی چیل کو ترقی دینا تھا ناکہ اس کے خلاف پروپیگنڈا کرنا لیکن بعض لوگوں نے اس کو بہت غلط انداز سے لیا’

ضلع صوابی سے تعلق رکھنے والی ماہ گل ایک ٹیکسٹائل ڈیزائنز ہیں جنہوں نے 8 ماہ قبل صوابی میں گل ہادی کے نام سے ایک فیشن برانڈ متعارف کرایا ہے جس کا مقصد گھروں میں کام کرنے والی خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کے کام کو آن لائن متعارف کروانا ہے۔ ماہ گل کے مطابق لا ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر انہوں نے اس تقریب کے لیے پارٹنر کے طور پر مخصوص لباس کی ڈیزائننگ کی۔

ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران ماہ گل نے بتایا کہ ان کا مقصد بس یہی ہے کہ صوابی کی تاریخی چیل کو نئے انداز کے ساتھ لوگوں کے سامنے پیش کریں اور اس کی تاریخی اہمیت سے بھی لوگوں کو آگاہ کرسکیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ڈیزائنر جب بھی کوئی چیز اٹھاتا ہے تو اس کو مختلف اور نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ ہر چیز میں جدت آرہی ہے۔ ماہ گل نے بتایا کہ انہوں نے ہمیشہ چیل کو متعارف کروانے کی کوشش کی ہے مثال کے طور پر ان کے برانڈ گل ہادی کے لوگو پربھی چیل کا ڈیزائن ہے اس کے ساتھ ساتھ ان کے جو برانڈ شاپرز ہیں ان پربھی چیل کے پرنٹ موجود ہوتے ہیں۔

‘صوابی کی چیل کی تاریخ بہت پرانی ہے اس لیے میرا مقصد ہے کہ اس چیل سے پاکستان کے باقی علاقوں کے لوگ اور باہر دنیا بھی آگاہ ہوسکیں، سندھ کا اجرک پوری دنیا میں مشہور ہیں اور وہ مختلف ڈیزائنز میں دستیاب ہے یہاں تک کہ اجرک ڈے بھی منایا جاتا ہے تو میں چاہتی ہوں کہ اس طرح چیل میں بھی جدت آئے نئے ڈیزائنز بنے اور لوگ اس کی تاریخ سے آگاہ ہوسکیں’ ماہ گل نے بتایا۔

ماہ گل نے کہا کہ ان کا ارادہ ہے کہ پہلے ضلعے کے سطح پر چیل کو متعارف کروائے اور پھر باہر کی دنیا میں، لیکن باہر کی دنیا میں لوگ چادر تو نہیں پہنتے اس لیے ہمارا مقصد یہ ہے کہ نت نئے ڈیزائن کے ساتھ ان کو دکھائے کہ وہ بھی اس کا استعمال شروع کردے۔

دوسری جانب اسلامیہ کالج یونیورسٹی میں پشتو ڈیپارٹمنٹ کے استاد اور 12 کتابوں کے مصنف نور الامین یوسفزئی نے چیل کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ تاریخ لکھی ہوئی تحریر میں نہیں ہے لیکن روایات کے مطابق ‘ جب اس علاقے پہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی تھی تو اس وقت وہ پختونوں پر ظلم کرتے تھے اور لوٹ مار کرتے تھے اور پختون اس کے خلاف مزاحمت کرتے تھے، اس وقت جب دونوں کے درمیان جنگ ہوئی تو اس میں جو افراد شہید یا زخمی ہوئے ان پر خواتین نے سفید چادر ڈال دیئے اور اس پر خون کے دھبے پڑگئے تو خواتین نے عقیدت کے طور پر ان چادروں کو پہنا جس کے بعد اس نے رواج کی شکل اختیار کرلی اور آج تک صوابی میں اس رواج کو زندہ رکھا گیا ہے’

تقریب میں چیل کے بلاوز پہننے پرتنقید کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ رہن سہن کے طریقوں اور ریت و رواج میں بھی تبدیلی آتی ہے کیونکہ ‘گودر’ ہماری تاریخ کا حصہ رہا ہے لیکن اب وہاں کوئی نہیں جاتا اب ہر گھر میں نلکے موجود ہیں اس کے ساتھ ساتھ لباس میں بھی تبدیلی آتی ہے۔

ٹی این این کے ساتھ بات چیت کے دوران نور الامین یوسفزئی نے کہا ‘ ہمارے آباو اجداد کھسے اور پگڑیاں پہنتے تھے، ہمارے باپ دادا چادر اور ٹوپیاں پہنتے ہیں لیکن ہم نے ان سب چیزوں کو خود سے دور کرلیا ہے تو اگر خواتین چیل نہیں پہنتی تو اس میں کوئی مذائقہ نہیں ہے اس پربے جا تنقید کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ یہ تو وقت کا تقاضا ہے وقت کے ساتھ ہر چیز میں تبدیلی آتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ اپنی روایات سے محبت کرتے ہیں تو ان چیزوں سے خفہ ہوتے ہیں لیکن اگر ان روایات کو زندہ رکھنے کے لیے کوئی مثبت سرگرمی ہوتی ہے تو اس پہ تنقید نہیں کرنی چاہیئے۔

ماہ گل کا کہنا ہے کہ معاشرے میں جب بھی کوئی نئی چیز آتی ہیں تو اس کو تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور تنقید سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن جس طرح سے بلاوز پہننے والی لڑکیوں پرتنقید کی گئی اور ان کے بارے میں عجیب کمنٹس کیے گئے تو وہ بہت منفی تھے اور اب ان کو مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں پہلے ہی سے لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے اور باہر نکلنے میں مشکلات کا سامنا ہے تو اس سے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھیں گی اور صوابی کی ثقافت اور چیل کی ترقی کے لیے کام کرتی رہیں گی۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button