فاٹا انضمام

فرقہ واریت نے گھر بارتو چین ہی لیا،کوئی پرسان حال نہیں، متاثرین کرم کے حالت زار کے ڈیڑھ سال

کرم ایجنسی کے فرقہ وارانہ فسادات میں بے گھر ہونے والے علاقہ شیلوزان تنگی کے متاثرین کا شکوہ ہے کہ ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود وہ کسم پرسی کی زندگی بتانے پرمجبور ہیں۔

سر پہ چت نہیں، پوچھنے کو کوئی ادارہ نہیں، بے گھر متاثرین جائے تو کہاں ؟ ایسے کئی سوالات ان بے خاندانوں کے زبان پر ہیں جن کا جواب شائد ہی کوئی حکومتی عہیدیدار دے سکے۔ ا نکے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ نے تو ان کو ڈیڑھ سال قبل چیک نمبرز دے دئے تھے لیکن وہ چیک ابھی تک ان کو نصیب نہ ہوسکے۔ “بے گھر افراد اپنے اخراجات کیسے اور کہاں سے چلاتے ہیں یہ تو کوئی بے گھر خاندان کی کفالت کرنے والا زمہ دار شخص ہی بتا سکتا ہے” یہ کہنا تھا ماسٹر گل کا جو ڈیڑھ سال سے اپنی یہی فریاد ہر گزرنے والے سے کرتا ہے ۔ ” دیڑھ سال ہوگیا چینک نہیں ملا جبکہ چیک نمبر دیاگیا ہے۔ ایک بابو کو بٹھایا گیا ہے جس کے پاس جا کر جب ہم پوچھتے ہیں کہ ہمارے چیک کہاں ہیں تو ان کا جواب آگے سے یہی ہوتا ہے کہ آپ کی چیک بک والی کتاب سیکرٹریٹ بھیجی گئی ہے ۔ کبھی ایک بہانہ کبھی دوسرا بہانہ لیکن صاف صاف جواب کوئی نہیں دیتا۔

متاثرین فرقہ واریت کی حالت زار کی فریاد جب متعلقہ پولیٹیکل انتظامیہ کے سامنے رکھی گئی تو پولیٹیکل ایجنٹ نیک محمد نے ٹی این این کو صاف صاف بتادیا کہ کسی کو بھی ایسا کوئی مسلہ ہو تو وہ پولیٹیکل انتظامیہ سے رابطہ کرے جبکہ ان کے مطابق اس بارے ایک کمیٹی بھی بنائی گئی ہے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں میں عوام کے لئے ایک اہم مسلہ اپنے شکایات پولیٹیکل انتظامیہ تک پہنچانا بھی ہے جس کی بڑی وجہ ان دفاتر تک عوام کی ناممکن اور مشکل رسائی ہے۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button