تعلیم

پشاور: ایک ساتھ پی ایچ ڈی کر کے تاریخ رقم کرنے والے باپ بیٹی کون ہیں؟

حنا گل

ہمارے ہاں شروع سے ایک رواج چلا آ رہا ہے کہ لوگ بیٹوں کو تو اچھی دلواتے ہیں لیکن بیٹیوں کو اعلیٰ تعلیم دلوانے سے گریز کرتے ہیں، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ادھر لوگ بیٹے اور بیٹی کو برابری کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ اگر کوئی بیٹیوں کو پڑھاتا بھی ہے تو ان کے والد ساتھ میں کبھی نہیں پڑھتے، کہنے کا مطلب یہ کہ ایک ساتھ یعنی ایک کلاس میں نہیں پڑھتے۔

لیکن حال ہی میں ایک انوکھا واقعہ پیش آیا جب انجینئرنگ یونیورسٹی پشاور (یو ای ٹی) سے باپ اور بیٹی نے ایک ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

باپ اور بیٹی کون؟

مسعود احمد اور نادیہ مسعود ایک مثالی باپ بیٹی ہیں جن کا تعلق مردان کے علاقے لوند خوڑ سے ہے۔ مسعود احمد یو ای ٹی میں بحیثیت ایسوسی ایٹ پروفیسر پڑھا بھی رہے ہیں۔ ڈاکٹر مسعود احمد اور ڈاکٹر نادیہ مسعود نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی پشاور سے ایک ہی دن پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔

اس حوالے سے ڈاکٹر مسعود کا کہنا تھا کہ 2014 میں میری بیٹی نے انجینئرنگ مکمل کی تھی اور 2016 میں ماسٹرز اور 2017 سے لے کر 2021 تک میں اور میری بیٹی نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

ڈاکٹر مسعود احمد نے بتایا کہ کچھ گھریلو ذمہ داریوں کی وجہ سے وقت پر پی ایچ ڈی حاصل نہیں کی، میری خواہش تھی کہ میں پی ایچ ڈی کر لوں لیکن میں زندگی کی دوڑ میں اتنا مصروف ہوا کہ وقت نہیں ملا کہ میں اپنی یہ خواہش پوری کر سکوں۔

انہوں نے کہا کہ جب میری بیٹی نے الیکٹریکل انجینئرنگ میں ماسٹرز کیا تو اس وقت مجھ سے کچھ ذمہ داریوں کا بوجھ کم ہو گیا تھا تو میں نے سوچا کیوں نہ اب پی ایچ ڈی کر لوں، تو میں نے اور میری بیٹی نے ایک ساتھ انٹری ٹسٹ امتحان دیا، دونوں نے ٹسٹ پاس کر کے پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا۔

نادیہ مسعود والد سے متاثر

نادیہ مسعود خان نے الیکٹریکل انجینئرنگ کا شعبہ اپنے والد سے متاثر ہو کر منتخب کیا تھا اور اس میں 2022 میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس حوالے سے ڈاکٹر نادیہ مسعود نے بتایا کہ ہم نے خوب محنت کی اور ایک دوسرے کی مدد کی، دونوں نے 2021 میں پی ایچ ڈی مکمل کی اور 2022 کے یونیورسٹی کانوکیشن میں ہمیں ڈگریاں مل گئیں۔

ڈاکٹر مسعود نے میکاٹرونکس میں پی ایچ ڈی کی ہے جبکہ ان کی بیٹی الیکٹریکل انجینئرنگ میں ڈاکٹر بنی ہے۔

گھر والوں کی سپورٹ

ان کا کہنا تھا کہ بیٹی کو اگر کہیں مشکل پیش آتی تو میں ان کی مدد کرتا تھا اور اپنی بیٹی کی حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایچ ڈی ایک مشکل مرحلہ تھا لیکن گھر والوں کی دعاؤں اور اپنی محنت سے ہم نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لی۔

ڈاکٹر مسعود احمد نے بتایا کہ ہماری کامیابی میں میری بیوی کا اہم کردار رہا ہے، ”جب ہم پی ایچ ڈی کی پڑھائی میں مصروف تھے تو اس دوران میری ذمہ داریاں میری اہلیہ نے سنبھال لی تھیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button