بلاگز

ایک واقعہ جس نے لوگوں کو دہلا کر رکھ دیا

خالدہ نیاز

ایک واقعے نے مجھ سمیت بہت سارے لوگوں کو دہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ ہم نے جب بھی مدرسوں کا نام سنا ہے تو ہمارے ذہنوں میں اس کے لیے بہت احترام آیا ہے اور احترام کیوں نہ ہو یہ بہت مقدس جگہیں ہوتی ہیں جہاں پر دین کی تعلیم دی جاتی اور جہاں پر زندگی سنواری جاتی ہے۔

لیکن لاہور کے ایک مدرسے میں ایسا واقعہ پیش آیا ہے جس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ کس طرح ایک مفتی مدرسے کے طالبعلم کو کئی سال تک جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا اور جواب میں طالبعلم کچھ کہہ نہیں سکتا تھا۔

بالآخر جب بات اس کے بس سے باہر نکلی تو اس نے کچھ ویڈیوز بنائیں اور وہ اپ لوڈ بھی کر دیں۔ پتہ نہیں کس دل کے ساتھ وہ یہ سب کچھ برداشت کرتا ہو گا اور پھر کتنی ہمت کر کے اس نے یہ ویڈیوز بنائی ہوں گی۔

اب جب ویڈیوز اپ لوڈ ہو چکی ہیں تو کچھ لوگ اس بات پہ یقین کرنے کو ہی تیار نہیں ہیں کہ مفتی صاحب نے ایسا کچھ کیا ہو گا حالانکہ مفتی صاحب خود اقرار کر چکے ہیں کہ ویڈیو میں وہ خود موجود ہیں تاہم یہ ویڈیوز پرانی ہیں کیونکہ ان میں انہوں نے جرابیں پہن رکھی ہیں۔

اب جب ان کا چہرہ پوری دنیا کے سامنے آ چکا ہے تو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کو نشہ آور چیز پلائی گئی تھی۔ چلو ایک مرتبہ ان کو نشہ آور چیز پلائی بھی گئی ہو تو مان لیتے ہیں لیکن بقول متاثرہ طالبعلم کے اس کو مفتی کئی سالوں تک جنسی زیادتی کا نشانہ بناتا رہا ہے اس حوالے وہ کیا کہیں گے؟

اس وقعے کے بعد ذہن میں ایک سوال ضرور ابھرتا ہے کہ کیا اب مدرسے بھی محفوظ نہیں رہے کیونکہ اب وہاں بھی طالبعلموں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات ہونے لگے ہیں۔ میں یہ نہیں کہتی کہ سب مدرسے ایسے ہوتے ہیں یا سب مفتی ایسے ہوتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا کہ ہمارے اردگرد ہر جگہ ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کاموں میں ملوث ہیں بس ان کو پہچاننے کی ضرورت ہے۔

افسوس اس بات پہ ہوتا ہے کہ ثبوت ہونے کے باوجود بھی کچھ لوگ یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیں کہ مدرسے میں ایسا ہو سکتا ہے یا مفتی عبد العزیز ایسا کر سکتے ہیں کیوں ہم لوگ غلط کام کو غلط نہیں کہہ سکتے اور کیوں مظلوم کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

جہاں دیکھو مفتی عبد العزیز کے حوالے سے باتیں ہو رہی ہیں چاہے وہ ٹوئٹر ہو یا فیس بک یا کوئی اور ویب سائٹ۔ چند روز قبل جب ملالہ یوسفزئی نے کہا تھا کہ شادی کرنے کے لیے کسی کاغذ کی ضرورت نہیں ہوتی تب وہ بھی کئی روز تک ٹاپ ٹرینڈ رہیں اور کئی لوگوں نے ان کی بات کو غلط انداز میں پیش کر کے کافی کچھ کہا۔

اب مفتی عبد العزیز الرحمان گزشتہ دو روز سے ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ بنے ہوئے ہیں اور اس کی وجہ وہ نازیبا ویڈیوز ہیں جن میں وہ قابل اعتراض حالت میں موجود ہیں۔ ہر کوئی اس حوالے سے اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے، کوئی مفتی عبد العزیز کے حق میں بات کر رہا ہے تو کوئی ان کے خلاف۔

یہ بہت شرمناک فعل ہے اور اس حوالے سے بات اس لیے زیادہ ہو رہی ہے کیونکہ اس کی ویڈیوز موجود ہیں، نجانے کتنے بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے نہ صرف مدرسوں میں بلکہ ہر جگہ پہ کسی کی عزت محفوظ نہیں ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم لوگ ابھی بھی خرگوش کی نیند سو رہے ہیں اور افسوس بعض لوگ تو اس معاملے پر بات کرنے سے بھی گھبراتے ہیں کہ شرم کی بات ہے اب اس پہ کیا بات کریں۔

حالانکہ شرم اور قابل غور بات تو یہ ہے کہ جب کسی مدرسے میں ایک مہتمم ایسا شرمناک کھیل کھیل سکتا ہے تو معاشرے کا کوئی عام سا بندہ کس حد تک گر سکتا ہے، یہ واقعی سوچنے والی بات ہے۔

طالبعلم نے اس حوالے سے پولیس کے پاس ایک ایف آئی آر درج کی ہے جس میں اس نے کہا ہے کہ کس طرح اس کو بلیک میل کیا جاتا رہا ہے اور اب جب یہ بات ساری دنیا میں پھیل چکی ہے تو اس کو مفتی سے خطرہ بھی ہے۔

اس طالبعلم نے یہ بھی کہا ہے کہ اس نے مفتی کی جنسی زیادتی کے حوالے سے مدرسے حکام کو آگاہ بھی کیا لیکن اس کی بات کسی نے نہ سنی۔

یہاں ایک بات ضرور کہوں گی کہ ہمارے ملک میں متعلقہ لوگ اور ادارے بھی مظلوم کا ساتھ نہیں دیتے، ہمیشہ طاقتور کی بات سنی جاتی ہے اور اس کی بات کو اہمیت دی جاتی ہے لیکن کب تک ایسا ہوتا رہے گا، کب تک ہمارے بچے یہ ظلم سہتے رہیں گے؟

والدین کی بھی اس ضمن میں ذمہ داری بنتی ہے کیونکہ وہ کس طرح اپنے بچوں سے غافل رہ سکتے ہیں چاہے وہ سکولوں میں ہوں یا مدرسوں میں یا کہیں اور، والدین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وقتاً فوقتاً بچوں کو اعتماد میں لے کر پوچھتے رہیں کہ ان کا کیا حال ہے، انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا تو نہیں ہے، کوئی ان کو بلیک میل کرنے کی کوشش تو نہیں کر رہا؟

اس واقعے کو سبق بنا کر سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہیے تاکہ مزید ہماری جگ ہنسائی نہ ہو اور مزید ہمارے بچے اس گھناؤنے فعل سے بچ سکیں۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

Back to top button