شمالی وزیرستان میں دریائے ٹوچی عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے

مزمل داوڑ

افغانستان کے جنوبی حصے کی طرف سے بہتے مرغئی اور مستونی کے چھوٹے دریا الگاڈے دواتوئی شمالی وزیرستان کی باونڈری پر ملتے ہیں جہاں سے دریائے ٹوچی شروع ہوتی ہے ۔شمالی وزیرستان کا پہلا نام بھی اسی دریا کے نام سے منسوب ٹوچی تھا آج بھی عمررسیدہ لوگ شمالی وزیرستان کو تیچی یعنی “ٹوچی” اور میرانشاہ بازار کو “سرائے” کے نام سے پکارتے اور جانتے ہیں ۔

دریائے ٹوچی تحصیل شوال سے ہوتا ہوا دتہ خیل کے پہاڑوں کے درمیان سے گزر کر کژاالگاڈے  کے مقام پر وادی ٹوچی میں داخل ہوتا ہے ۔ یہاں سے دیگان بازار ، بویا تحصیل ،محمد خیل  ہمزونی ،میرانشاہ ہیڈ کوارٹر ، تپی ،عیدک ،خدی  گاوں ،حسوخیل اور حیدر خیل گاوں سے ہوکر ضلع بنوں کے راستے ضلع لکی مروت  میں داخل ہوتا ہے۔

دریائے ٹوچی لکی مروت کے علاقے میں گمبیلا کے نام سے پکارتے ہے پھر ٹوچی یا گمبیلا دریا لکی مروت کے علاقہ ہی میں دریا کرم سے مل جاتا ہے  ۔ وزیرستان میں دریائے ٹوچی کی لمبائی  200 کلومیٹر بتائی جاتی ہے یہ شمالی وزیرستان کا اہم دریا ہے۔

دریائے ٹوچی کے فوائد

دریائے ٹوچی سے عوام نے اپنی مدد آپکے تحت چھوٹے ندی “ویلہ “ نکالے ہیں جو آبپاشی کے لئیے غنیمت سے کم نہیں۔ وزیرستان  کے زمینوں کا زرخیز ہونے میں دریا ٹوچی کا اہم کردار ہے جہاں سے زمیندار  پانی کے ندی کے ذریعے اپنی زمین سیراب  کرتے ہیں ۔ جبکہ وزیرستان میں ہر قسم باغات ، سبزیاں ، گندم ،مکئی جوار ، کی فصیلیں بوئی جاتی ہے  ۔

دریائے ٹوچی کا فائدہ یہ بھی ہے  کہ اس دریاء کیساتھ ساتھ آبادی موجود ہے جہاں ہر گھر میں پینے کے لئے صاف پانی اور جگہ جگہ ٹیوب ویل ، ڈگ ویل میں اسی دریا کی وجہ سے پانی زمین کی اوپر کی سطح پر ہوتی ہے ۔ وزیرستان کے لوگوں کو  حکومتی  توجہ نہ ملنے کی وجہ سے جہاں کاروبار زندگی و دیگر چیزیں متاثر ہے وہی کھیل کھود کے لئیے میدان بھی نہیں ۔

کھلاڑی اسی دریاء ٹوچی کے خشک حصے میں اپنی مدد آپ کے تحت کھیلنے کے لئے گراونڈ بناتے ہیں جہاں بڑے بڑے ٹورنامنٹ منعقد ہوتے ہیں ۔ سہ پہر ہوتے ہی جگہ جگہ ہزاروں لوگ دریا ٹوچی کا رخ کرتے ہیں جہاں فٹ بال ، ولی بال ، کرکٹ کے میچیز سے لطف اندوز ہوتے ہیں جبکہ صبح سے لیکر عصر تک  وزیرستان کے اکثر دیہاتی گاؤں دریائے ٹوچی میں  بکری ، گائے ، بھینس وعیرہ  بآسانی چرواتے ہیں۔اسی دریا کے خشک حصوں سے قریبی گاوں  کے لوگ مکانات گھر بنانے کیلئے بجری ، پتھر ، ریت وغیرہ لی جاتے ہیں ۔

نوجوان بچے بوڑے نماز عصر کے بعد سیرکرنے کےلئے اپنے دوستوں کے ہمراہ  دریائے ٹوچی کا رخ کرکے انجوائے کرنے کے لئے نکلتے ہیں ۔

خوبصورت چشمے کی پانی کے دیمی آواز کے ساتھ کوئی سیلفی اور کوئی ٹیک ٹاک ویڈیو بنانے میں مصروف رہتے ہیں ۔ تاہم دریاء ٹوچی کے دونوں سائیڈ پر پروٹیکشن وال نہیں  جس سے اکثر سائیڈ کی زمین دریاء میں بہہ جاتی ہے ۔

حکومت اگر دریا ٹوچی کے دونوں طرف پر پروٹیکشن وال بنائیں  تو ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کاشتکاری  کےلئے تیار ہو جائے گی اور دریاء کے تیز لہروں کے باعث زمینی کٹاؤ نہیں ہوگی جس سے زمیندار خوشحال اور اجناس میں خودکفیل ہونگے جس سے وزیرستان اور پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری بھی اسکتی ہے ۔ دریاء ٹوچی کیساتھ ساتھ اگر  حکومت  دونوں طرف پر متوازی روڈ  یا شاہراہ  بنائیں تو اس کے الگ فوائید ہونگے ، ٹوچی اقتصادی رہداری  بھی بن سکتی ہے اور اس شاہراہ سے میں بنوں میران شاہ اور غلام خان روڈ پر ٹریفک میں کمی آ جائے گی ۔

دریاء کنارے روڈ بننے کی صورت میں لوگ  ہوٹل ، پنچر کی دکانیں گراج،آئل پمپس ، سروس اسٹیشن بن جائینگے جس سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا لوگوں کا کاروبار بڑھ جائے گا ۔کاروبار بڑھنے  کے ساتھ ساتھ پاکستان اور وزیرستان کی  معاشی حالت میں بہتری آئے گی ۔

دریائے ٹوچی کے نقصانات

یقینا دریائے ٹوچی کے فوائد تو بے شمار ہے لیکن پیشگی اقدامات نہ ہونے اور حکومتی عدم توجہ کے باعث  ان کے نقصانات بھی ہے گزشتہ مہینے شمالی وزیرستان میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا تھا، تیز بارشیں  اور آندھی طوفان کی وجہ سے دریائے ٹوچی کے پانی میں اضافہ ہوا تھا ۔دریا ٹوچی میں پانی بڑھنے کی وجہ سے وزیرستان کے لوگوں نے بہت سے نقصانات اٹھائے ۔ کھڑی فصلیں تباہ و برباد ہوجاتی ہے زمینی کٹاؤ کیساتھ دریا کنارے یا کچھ فاصلے پر واقع  گھر اور مساجد بھی دریاء میں بہہ جاتے ہیں  ۔

تباہی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جہاں پر پہاڑ ہو وہاں سب کچھ محفوظ رہتا ہے اور جہاں پر پہاڑ یا  پروٹیکشن وال  نہیں ہے وہاں پر  مساجد ، گھر ، کھڑی  فصلیں  زمین سب کچھ برباد کرکے مٹی کا ڈھیر بن جاتاہے ۔ ٹوچی پار علاقے کے لوگوں کی آمدورفت کے لئیے جہاں پل موجود ہے وہاں تو لوگ باسانی اپنے گھر کو پہنچ جاتے ہیں مگر  جہاں پر پل یا متبادل راستہ  موجود نہیں ہے وہاں کے  لوگوں کو پانی کم کے لئیے گھنٹوں انتظار کرنا پڑھتا ہے ۔ پانی کا بہاو کم ہو جانے کے بعد لوگ دریا ٹوچی  پار کر گھر پہنچ جاتے ہیں ۔

مقامی قبائل اور دریا ٹوچی کے کنارے آباد اقوام کا مطالبہ ہے کہ دریاء ٹوچی  کے دونوں اطرف پر پروٹیکشن وال کی فوری منظوری دی جائے تاکہ مذید زمینی کٹاؤ اور عوام کا نقصان نہ ہو  اور آر پار آباد لاکھوں لوگوں کے لئیے آسانیاں پیدا کریں ۔

 

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button