پاکستان میں وزیر تعلیم کیلئے ماہر تعلیم ہونا ضروری نہیں

عظمت تنھا چغرزئی

استاد کا تعارف:

پیشے کے اعتبار سے استاد معاشرے میں سب سے معتبر پیشے سے تعلق رکھتا ہے۔ ٹیچر، اسکول ٹیچر، مدرس اور معلم وغیرہ جیسے القابات معاشرے نے استاد کو دیئے ہیں جوکہ مختلف ممالک میں بولی جانے والی زبانوں کے اعتبار سے پکارے جاتے ہیں۔

استاد کے فرائض دراصل جس شعبے سے تعلق رکھتے ہیں وہ تعلیم کا شعبہ ہے (یاد رہے یہ میں عام بات کر رہا ہوں پاکستان میں استاد سے کیا کیا کام لئے جاتے ہیں آگے تفصیل بتاتا ہوں) جو کہ پرائمری سکول سے لے کر کالج اور یونیورسٹی تک یہ سلسلہ جاتا ہے۔ ایک استاد کے لئے درکار تعلیم ان کے ملک کا تدریسی سند اور درکار صلاحیت اپنے مضمون پر مکمل عبور کا حصول ہے۔

اسلام میں استاد کا مقام:

سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں "مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا” (ابن ماجہ-229)

یعنی اسلام کے پہلے اور کائنات کے سب سے عظیم استاد ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے جسے تمام امت کی رہنمائی کے لئے ایک مکمل دین کے ساتھ بھیجا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسان سے لے کر چرند پرند تک کے ساتھ سلوک اور زندگی گزارنے کے تمام تر اصول و ضوابط اور طور طریقے ہمیں سکھائے اور ان کے لئے حدود مقرر کئے۔

اسلام میں تین لوگوں کو باپ کا درجہ دیا گیا ہے ایک وہ جس کے خون سے بندہ پیدا ہوا ہو اور اس پر بچے کی پرورش کپڑا، خوراک، علاج، علم و تعلیم وغیرہ کے اخراجات اور جسمانی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

دوسرا باپ انسان کا سسر ہوتا ہے خواہ وہ لڑکی ہو یا لڑکا یعنی جس کے باپ نے اپنے جگر کا ٹکڑا آپ کو سونپا ہو اور بھروسے کے ساتھ آپ کو اپنے خون میں شریک بنایا ہو۔

تیسرے باپ کو اسلام نے کیا خوب صورت نام دیا ہے "روحانی باپ” یعنی وہ باپ جو انسان کے روح کی تربیت کرتے ہیں پہلے بیان کئے گئے دونوں کا تعلق انسان کے جسم کے ساتھ ہے لیکن استاد کا تعلق سیدھا روح کے ساتھ جڑا ہوا ہے مطلب استاد زندگی کا رہبر اور رہنما ہے، استاد کو اسلام میں تاریکی سے نکالنے والے مشعل کا مقام دیا گیا ہے۔

بیرونی دنیا میں استاد کا مقام:

یہاں اس بارے میں زیادہ طوالت سے کام لینے کی ضرورت نہیں صرف ایک مثال سے اپ کو بیرونی دنیا میں استاد کے احترام اور ان اقوام کی ترقی کے راز سے متعارف کرتا ہوں۔

معروف مصنف مرحوم اشفاق احمد صاحب لکھے ہیں "برطانیہ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر مجھ پر جرمانہ عائد کیا گیا میں مصروفیات کی وجہ سے چالان جمع نہ کرسکا تو مجھے کورٹ میں پیش ہونا پڑا۔ کمرہ عدالت میں جج نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کیوں چالان جمع نہیں کیا؟ تو میں نے کہا میں ایک پروفیسر ہو اکثر مصروف رہتا ہوں اس لئے چالان جمع نہیں کرسکا۔ تو جج نے کہا، "The teacher is in the court” اور پھر جج سمیت سارے لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے اسی دن سے میں اس قوم کی ترقی کا راز جان گیا۔

پاکستان اور استاد:

بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں اساتذہ کرام اپنے ہی شاگردوں کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ دفاتر میں بیٹھے ہوئے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہاتھ میں پکڑے قلم اور منہ میں موجود زبان کو  لکھنے، بولنے کے قابل بنانے والے استاد ہی تھے، ملک میں موجود انگریز کے چھوڑے گئے غلام قانون نے معاشرے کی اخلاقیات کو نست و نابود کیا ہے، یہاں پرائمری سکول ٹیچر سے لے کر یونیورسٹی کے پروفیسرز اور ڈاکٹرز تک سب کو اس ہتک آمیز رویے کا سامنا کہیں نہ کہیں کرنا پڑتا ہے۔

استاد کے حوالے سے اس قوم کی بے حسی کی چند جھلکیاں ملاحظہ کیجئے
۔۔۔پولیو مہم میں استاد محترم
۔۔۔مردوم شماری میں استاد محترم
۔۔۔ٹیکوں کی مہم میں استاد محترم
ووٹر لسٹ بنانے میں استاد محترم
۔۔۔بچوں کو مختلف بیماریوں کی گولیاں دینے میں استاد محترم
ملیریا و دیگر بیماریوں کی آگاہی مہم میں استاد محترم
۔۔۔الیکشن کی ڈیوٹی ہو تو استاد محترم
وغیرہ وغیرہ

یہ وہ تمام ذمہ داریاں ہیں جو دنیا کے کسی ملک میں بھی استاد کے پیشے سے منسلک نہیں ہیں۔ شرمندگی کی بات یہ ہے کہ الیکشن جیسے پیچیدہ عمل میں جان کی پروا کئے بغیر فرائض انجام دینے والے اساتذہ کرام کے مسائل کے حل کی جب باری آتی ہے تو وہاں ارباب اختیار خاموش ہو جاتے ہیں، کہتے ہیں اساتذہ کو احتجاج کا اختیار نہیں ہے۔

بسا اوقات یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ استاد کو اضافی کام کرنے کے پیسے ملتے ہیں اور یہ بات ٹھیک بھی ہے کہ پیسے ملتے ہیں لیکن کیا وہ کام جو ایک استاد سے لیا جاتا ہے ان کے متعلقہ ادارے موجود نہیں ہیں؟ بالکل ہیں۔ کیا ان کے افسران اور کارندے حکومت سے تنخواہیں اور مراعات نہیں لیتے؟ اگر لیتے ہیں تو وہ اپنے کام سے غافل اور حکومتی خزانے پر بوجھ کیوں ہیں؟ کیا ان سے کوئی سوال جواب پوچھنے والا نہیں ہے؟ نہیں! کیونکہ بدقسمتی ہماری یہ ہے کہ بیوروکریسی میں بدعنوانی کے گاڑے گئے پنجوں کو اکھاڑے والا اس ملک میں کوئی پیدا نہ ہوا۔

ملک ایک نظام کے تحت چلتا ہے ہر ادارے کے اپنے قواعد وضوابط اور دائرہ اختیار  کے تحت اپنے فرائض ہوتے ہیں اور ادارے کے لئے اہل لوگوں کا انتخاب کر کے ہی ملک و قوم کو ترقی شاہراہ پر گامزن کیا سکتا ہے لیکن ہمارے ہاں نظام فرسودہ اور بوسیدہ ہو چکا ہے بلکہ مزید پستی کا عالم یہ کہ وزیر تعلیم کے لئے ماہر تعلیم ہونا ضروری نہیں، بقول سابق صوبائی وزیر اطلاعات خیبر پختون خوا  کے "اکبر ایوب کو انگریزی کی اچھی خاصی سمجھ ہے اسی لئے ان کو وزیر تعلیم بنایا ہے۔” یعنی جس ملک کے ایک پورے صوبے کے تعلیمی محکمے میں لاکھوں اساتذہ، لیکچرار، پروفیسرز کے لئے تعلیمی پالیسی بنانے والوں کے لئے اہلیت کی شرط صرف انگریزی زبان پر عبور حاصل ہونا ہو تو اس ملک کا خدا ہی حافظ و ناصر ہے۔

استاد کو ان کا اصل مقام دیں:

آخر میں حکومت وقت سے درخواست کرتا ہوں کہ تعلیمی پالیسی بناتے وقت کمیٹیوں میں متعلقہ لیول (پرائمری/ہائی/ہائیر ایجوکیشن) کے اساتذہ کرام کو شامل کیا جائے، ان کو اصل مسائل کا پتہ ہوتا ہے، وہ باہر کے لوگوں کی نسبت بہتر طریقے سے حل نکال سکتے ہیں، اسی طرح حکومت اور اساتذہ کے مابین آئے روز کے مسائل بھی حل ہو جائیں گے جس کا مثبت اثر بچوں پر پڑے گا۔

دوسری طرف ایک ذمہ دار معاشرے کے شہری کی حیثیت سے ہماری بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ بچوں کو اخلاقیات کا درس دیں، ان کے اساتذہ کو احترام دیں، بچے  دیکھ کر خود بخود سیکھ جاتے ہیں، کل کو وہ بھی اساتذہ کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھیں گے، ان کی تکریم کریں گے اور بہتر مستقبل پائیں گے کیونکہ "استاد بادشاہ نہیں ہوتا لیکن بادشاہ بناتا ہے۔”

Show More

جواب دیں

Back to top button
Close