بلوچستان

بلوچستان : ثاقبہ کی خودکشی کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قایم

 بلوچستان ہائی کورٹ نے مسلم باغ کی طالبہ ثاقبہ کی مبینہ خودکشی کی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قائم کردیا۔

رواں ماہ کے وسط میں ضلع قلعہ عبداللہ کی ایک 17 سالہ طالبہ ثاقبہ حکیم کاکڑ نے کالج پرنسپل کی جانب سے داخلہ فارم انٹرمیڈیٹ بورڈ نہ بھجوائے جانے پر مبینہ طور پر خودکشی کرلی تھی۔

اہلخانہ کا دعویٰ تھا کہ ثاقبہ کی خودکشی کی وجہ کالج پرنسپل کا رویہ تھا، جنھوں نے محض اس وجہ سے اس کا داخلہ فارم انٹرمیڈیٹ بورڈ نہیں بھیجا کیونکہ ثاقبہ نے جون 2015 میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے کالج میں اساتذہ کی کمی کے خلاف ایک مظاہرے کی سربراہی کی تھی۔

کمیشن اپنی انکوائری 30 روز میں مکمل کرے گا۔

عدالت عالیہ نے سماعت کے دوران ریمارکس میں کہا کہ مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر احتجاج کی بجائے عدالت سے رجوع کیا جائے تو اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں۔

25 فروری کو ہائی کورٹ نے ثاقبہ کے ورثا کی درخواست پر کالج پرنسپل اور کلرک کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا تھا۔

عدالت نے طالبہ کے اہل خانہ کو یقین دلایا تھا کہ انتہائی اہم نوعیت کے کیس میں ان کے ساتھ مکمل انصاف کیا جائے گا۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button