بدلون

قبائلی علاقوں میں عرصہ دراز سے کسی نہ کسی شکل میں سیاسی اصلاحات پر کام کیا جارہا ہے

[soundcloud url=”https://api.soundcloud.com/tracks/248988763?secret_token=s-dVe19″ params=”auto_play=false&hide_related=false&show_comments=true&show_user=true&show_reposts=false&visual=true” width=”100%” height=”250″ iframe=”true”  class=”soundcloud-frame”/]

قبائلی علاقوں میں عرصہ دراز سے کسی نہ کسی شکل میں سیاسی اصلاحات پر کام کیا جارہا ہے 1996ء میں پہلی بار قبائلی عوام کو ووٹ کا حق دیا گیا جس کے مطابق اٹھارہ سال اور اس سے زائد عمر کے افراد قومی اسمبلی کیلئے اپنے نمائندے کے انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں ۔ 2011ء میں حکومت کی جانب سے ایف سی آر کے قانون میں اصلاحات کئے گئے تاہم قبائلی عوام ملک کے دیگر علاقوں کے شہریوں کی طرح بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھی تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ نے گزشتہ سال فاٹا میں اصلاحات کیلئے بائیس ویں آئینی ترمیم پیش کردی ہے جس کا تاحال کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا لیکن وزیراعظم میاں نواز شریف نے اصلاحات کیلئے کمیٹی بنائی ۔
کمیٹی وزیراعظم کے امور خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز ، گورنر خیبر پختونخوا ، ناصر جنجوعہ اور سرحدات کے وفاقی وزیر قادر بلوچ پر مشتمل ہے۔ فاٹا میں جاری اصلاحاتی عمل کے سلسلے میں عوام کی آگاہی کتنی ہے ٹی این این اس بارے میں عوامی حلقوں سے بات چیت کی ہے جس میں عوام اپنے اپنے طرز میں اصلاحات کو بیان کیا ہے۔

بعض لوگوں کو اصلاحات کے حوالے سے کوئی علم نہیں وہ نہیں جانتے کہ فاٹا میں اصلاحات کا کیا مطلب ہے ، ان لوگوں کا کہناہے کہ اگر انہیں سمجھایا جائے تو حکومت کے ساتھ تعاون مزید بڑھ جائیگا۔ ایف سی آر کا خاتمہ اچھا اقدام ہے ‘ ایف سی آر ختم ہوگا تو ایک فرد کی سزا دوسرے کو نہیں ملے گی ۔
کچھ لوگوں نے بیان کیا کہ یہ تو پتہ نہیں کہ کہاں سے اصلاحات کے بارے میں علم ہوا ہے لیکن اتنا معلوم ہوا ہے کہ ایف سی آر کے قانون میں ترمیم کرکے نرم کیا جارہا ہے ۔ ایف سی آر قانون کے تحت جرم خاندان کا ایک فرد کرتا ہے اور خاصہ دار دوسرے بندے کو اٹھا لیتے ہیں جو بے گناہ ہوتا ہے ۔
ایف سی آر بے حد خراب قانون ہے اس میں اصلاحات ضرور ہونی چاہیے تاکہ ہر شہری کو اپنا اپنا حق مل سکے ۔ فاٹا کے عوام میں بعض میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ کہتے ہیں کہ اوہ کچھ نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ ان باتوں کو نہیں سمجھتے ۔ فاٹا کے عوام کی ایک بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو کہتی ہے کہ ہم بھی پاکستانی ہیں اور ملک کے دیگر شہریوں کی طرح ہمیں بھی اپنے حقوق ملنے چاہیے صوبوں کے طرز پر یہاں بھی انتظامیہ ہونی چاہیے اس کے علاوہ اگر ایف سی آر اتنا ہی اچھا ہی قانون ہے تو پھر اس قانون کو اسلام آباد میں بھی لاگو کرنا چاہیے ۔
فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے عوامی حلقوں سے بات چیت کے بعد فاٹا سے تعلق رکھنے والے قانون دان محمد اعجاز مہمند نے بتایا کہ اس وقت جو بل قومی اسمبلی میں پیش ہوا ہے یہ بل آٹھ ماہ قبل سینٹ سے پاس ہوا ہے اس کے علاوہ سپریم کورٹ ، ہائی کورٹ اور صوبائی اسمبلیوں سے بھی پاس ہوا ہے اس کے علاوہ گیارہ سیاسی جماعتوں اور قبائل سیاسی اتحاد نے بھی اس کی حمایت کی ہے اس بل میں دو باتیں ہیں کہ آرٹیکل 247کا خاتمہ کیا جائے اور فاٹا کو پاٹا کی حیثیت دی جائے جوکہ ملاکنڈ ڈویژن کو دیا گیا ہے ۔ محمد اعجاز مہمند نے درج ذیل سوالات کے جواب کچھ یوں دیں۔۔۔
ٹی این این :فاٹا ریفارمز میں کیا شامل ہیں ۔
اعجاز مہمند ۔اصلاحات ہمیشہ ان لوگوں کیلئے ہوتا ہے جن کا استحصال ہوتا ہو فاٹا میں جو اصلاحات کئے گئے ہیں وہ بدعنوانی کے نظر ہوئے ہیں سب سے بڑی اصلاحات 2011ء ریفارمز ہیں جس میں تین قسم کے اصلاحات سامنے آئے ہیں ایک ایف سی آر میں یہ ترمیم ہوئی کہ بزرگ افراد ، خواتین اور بچے حراست میں نہیں لئے جائینگے دن کے وقت لوگوں کے حجروں اور گھروں کو مسمار نہیں کیا جائے گا ریاستی فنڈکا اڈیٹ کیا جائے گا اور اجتماعی ذمہ داری کے قانون میں نرمی لائی گئی دوسری پولیٹیکل پارٹی ایکٹ کا دائرہ کار بڑھایا گیا اور تیسری تبدیل فاٹا ٹریبونل قائم کی گئی اس ٹریبونل کو ہم نے کورٹ میں چیلنج کردیا ہے کیونکہ یہ غیر قانونی ہے۔
سیاسی ایکٹ میں زیادتی کی گئی ہے کہ فاٹا کے جونمائندے اسمبلی میں بیٹھے ہیں ان کو قانون سازی میں حصہ لینے کا اختیار نہیں ہے۔ اس کے علاوہ ایف سی آر میں جو ریفارمز لائے گئے اس پر عمل درآمد نہیں کیا جارہا اور وہ تمام اختیار بھی گورنر کے پاس ہے۔ فاٹا ریفارمز کیلئے گورنر ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس نے اپنے رپورٹ پیش کی تو اس میں لکھا گیا تھا کہ ایف سی آر اچھا قانون ہے اسے مزید لاگو رہنا چاہئے۔
سوال: فاٹا ریفارمز پر عمل درآمد نہ ہونے کے حوالے سے کیا کہیں گے اور ریفارمز کے اختیار کس کے پاس ہیں؟
اعجاز مہمند: فاٹا ریفارمز کے بارے میں اختیارات دو قسم کے ہیں ایک پارلیمنٹ کے ذریعے صدر کا اختیار ہے جس طرح کہ موجودہ ترمیمی بل پیش کیا گیا ہے اوردوسری قسم گورنر کے پاس اختیار ہے جیسے کہ عدلیہ اور انتظامیہ کو علیحدہ 2011ء کے ریفارمز پر عملدرآمد کرنے کیلئے پراسیکیوشن برانچ بنانا۔ گورنر کو چاہئے کہ وہ ایک سمری تیار کرکے فاٹا میں ٹریبونل قائم کریں لیکن یہ اقدام اس لئے نہیں اٹھایا جارہا کہ کرپشن ختم ہوجائیگی ۔
ٹی این این : ریفارمز کیوں ضروری ہیں؟
اعجاز مہمند: ریفارمز اس لئے ضروری ہے کہ یہ اکیسویں صدی ہے لیکن یہاں پر انصاف ‘ قانون نہیں ہے پولیٹیکل ایجنٹ سسٹم کے خاتمے سے فاٹا کے عوام کے محرمیوں کا ازالہ ہوجائے گا اور قبائلی عوام ترقی کرسکیں گے۔ آج بھی مہمند ایجنسی میں ایسا علاقے موجود ہیں جہاں 15دن سے بجلی نہیں ہے وہاں تعلیم اور صحت کے حوالے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ فاٹا کے لوگ ہے جو یہاں زندگی گزاررہے ہیں دوسرے علاقوں کے لوگ یہاں پر ایک دن بھی نہیں رہ سکتے۔ فاٹا جنوبی اور سنٹرل ایشیاء کے درمیان ایک پٹی ہے اور یہ مزید ایسی حالت میں نہیں رہ سکتا۔
ٹی این این: ریفارمز کے بعد قبائلی علاقوں کی قانونی حیثیت کیا رہ جائیگی ؟ کیا یہ بھی صرف ایک قانون ہوگا یا پھر ریگولیشن ہی رہے گی؟
اعجاز مہمند: بل قومی اسمبلی میں ہے اب چاہئے کہ اس بل کو بحث کیلئے پیش کیا جائے ‘ اس کے لئے کمیٹی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بل پاس ہونے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے حلقہ بندیاں کردی جائیگی اور ایف سی آر مکمل طور پر ختم ہو کر ملک کے دوسرے علاقوں میں موجود قانون فاٹا میں بھی لاگو ہو جائے گی۔
قبائلی ایجنسیوں میں سیاسی اصلاحات کے سلسلے میں سیاسی جماعتوں اور مشران کی جانب سے عوام میں سیاسی شعور بیدار کرنے کیلئے مہم شروع کی گئی ہے ۔ مہم کے دوران فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے معروف سیاسی شخصیت حمید اللہ خان نے کہاکہ اصلاحات کا فیصلہ حمید اللہ کا کام ہے نہ ہی چٹان کا یہ تو قبائلی عوام کا کام ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں‘‘

فاٹا گرینڈ جرگے کے سربراہ اور سابق وفاقی وزیر حمید اللہ آفریدی باجوڑ میں سیاسی اصلاحات کے حوالے سے ایک جرگے سے خطاب کررہے ہیں۔جرگہ اس قسم کے پروگرام فاٹا کے دیگر ایجنسیوں میں بھی منعقد کراچکا ہے۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق فاٹا کی آبادی ایک کروڑ سے زائد ہے ، ان عوام پر 1901ء سے ایف سی آر کا قانون لاگو ہے جسے بیشتر قبائلی عوام کالا قانون کہتے ہیں۔ ایف سی آر میں پچھلے 20سال کے دوران وقتاً فوقتاًتبدیلیاں کی گئیں ہیں اور اب ایک بار پھر اس قانون میں ترمیم کی باتیں ہو رہی ہیں۔ حمید اللہ آفریدی کا کہناہے کہ اکیسویں صدی میں بھی قبائلی عوام اس ظالمانہ قانون کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہیں لیکن اب وقت آگیا ہے کہ اس کالے قانون میں تبدیلی کی جائے۔ ’’ یہ احساس محرومی کی بات ہے ، وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے حق کیلئے اٹھ کھڑے ہو خواہ وہ علیحدہ صوبہ کی شکل میں ہو کیا منتخب کونسل نظام کی صورت میں‘‘۔
بھائی چارے اور پختون ولی کی باتیں عملاً نظر نہیں آرہی ۔ وفاقی حکومت کی جانب سے اصلاحات کیلئے قائم کمیٹی نے فاٹا کے مختلف علاقوں کے دورے کئے ہیں تاکہ وہاں کے عوام کی رائے معلوم کی جاسکیں۔
ایف سی آر کا خاتمے چاہنے والوں کے علاوہ کچھ لوگ ایسے بھی ہے جو ایف سی آر کو اچھا قانون سمجھتے ہیں اور اس قانون کا خاتمہ ضروری نہیں سمجھتے ۔انہیں لوگوں میں سے ایک ملک عبدالعزیز بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ایف سی آر کو اپنی جگہ بحال رکھا جائے اور اگر پھر بھی اس قانون میں تبدیلی لائی جارہی ہے تو قبائلی رسم و رواج کو مد نظر رکھا جائے۔ ’’ اس سے قبل جب انگریزوں کی حکومت تھی تو قبائلی کیا کرتے تھے؟ ان کا رواج تھا کہ یا تو جرگے کیلئے بیٹھ جاؤ یا پھر شرعی راستہ پر چلے۔ قبائلیوں کارواج تھا‘ شریعت تھی یا پھر قومی جرگہ تھا۔ اب یہ بات کہ قبائلی عوام سے مشورے کے بغیر ان سے اختیار لینا ٹھیک نہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ فاٹا کے عوام کو اکٹھا کرکے ان کی رائے معلوم کرنی چاہئے کہ وہ کس طرح رہنا چاہتے ہیں ، ہم اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار کسی کو نہیں دینگے‘‘۔
قبائلی علاقہ جات جو 7ایجنسیوں اور 6ایف آرز پر مشتمل ہے اور جس کی سرحد یں خیبر پختونخوا سے ملی ہوئیں ہیں ، اس حوالے سے سیاسی رہنماء اورنگزیب انقلابی کہتے ہیں کہ ان علاقوں کو خیبر پختونخوا کے ساتھ ملایا جائے۔
’’ میری تعلیمی وابستگی صوبے کے ساتھ ہے اور یہاں ہمارے کئی ڈیپارٹمنٹس ہیں ،قبائلی علاقوں کے فنڈز بھی اسی صوبے سے ہوتی ہیں ‘ ہمیں چاہئے کہ اپنے بچوں کے مستقبل کیلئے سوچیں، میں نے سرتاج عزیز کو بھی کہاہے کہ اگرانہیں اپنے بچوں کیلئے ایف سی آر پسند ہے تو پھر ہم پر لاگو کرے اور اگر ایف سی آر بے حد اچھا قانون ہے تو اسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے جائیں‘‘۔
اگر فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے تو دوسری جانب خیبر ایجنسی کے جلیل سمیت بیشتر لوگ فاٹا میں اصلاحات کے حوالے سے کسی قسم کے معلومات نہیں رکھتے۔ اورنگزیب انقلابی مزید کہتے ہیں کہ
’’ اصلاحات تو ہم جانتے ہی نہیں‘ ہم تو اپنے دکانداری کرتے ہیں ۔ ہمیں تکالیف کا سامنا ہے کیونکہ ہم آئی ڈی پیز ہیں ، پہلے اپنے علاقوں میں واپسی کیلئے اقدمات اٹھائے جائے پھر اصلاحات کی بات کی جائے‘‘۔

Show More

متعلقہ پوسٹس

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button